پھر نئی شب نئی کہانی سُن
ہو گئی اک بھری جوانی سن
یہ گھڑی پھر نصیب ہو کہ نہ ہو
زندگی آ، میری کہانی سن
کشتیاں زیرِ آسماں محبوس
کھو دیا جواز جینے کا
کھو گئی ہے تِری نشانی سن
قصۂ غم سنا ہزاروں سے
اب یہ قصہ مِری زبانی سن
تیرے سائے میں ہو گیا بے حال
میری ہمدرد راجدھانی سن
جس کی رگ رگ سے لوگ واقف ہیں
کر رہا ہے وہ پاسبانی سن
کچھ اہم کام ہیں جو کرنے ہیں
اے مِری مرگِ ناگہانی سن
راغب تحسین
No comments:
Post a Comment