صفحات

Tuesday, 25 August 2020

پھر نئی شب نئی کہانی سن

پھر نئی شب نئی کہانی سُن
ہو گئی اک بھری جوانی سن
یہ گھڑی پھر نصیب ہو کہ نہ ہو
زندگی آ، میری کہانی سن
کشتیاں  زیرِ آسماں محبوس
یخ ہوا کر گئی ہے پانی سن
کھو دیا جواز جینے کا
کھو گئی ہے تِری نشانی سن
قصۂ غم سنا ہزاروں سے
اب یہ قصہ مِری زبانی سن
تیرے سائے میں ہو گیا بے حال
میری ہمدرد راجدھانی سن
جس کی رگ رگ سے لوگ واقف ہیں
 کر رہا ہے وہ پاسبانی سن
کچھ اہم کام ہیں جو کرنے ہیں
اے مِری مرگِ ناگہانی سن

راغب تحسین

No comments:

Post a Comment