صفحات

Tuesday, 25 August 2020

زمیں کا درد ہے اور خوف آسمان کا ہے

زمیں کا درد ہے اور خوف آسمان کا ہے
ہمارے واسطے یہ وقت امتحان کا ہے
میں شہر بھر کا ہدف ہوں یقیں سے کیسے کہوں
جو آ رہا ہے ادھر تیر، کس کمان کا ہے؟
یہ دھوپ ہے جو مسلسل سفر میں رکھتی ہے
رکاوٹوں میں بڑا ہاتھ سائبان کا ہے
کوئی  پکارنے والا نہیں بیاباں میں
یہ سب فریبِ سماعت مِرے گمان کا ہے
کہا گیا تھا کہ بنیاد اس کی  ٹھیک نہیں
سو دیکھ لو، کہ یہ ملبہ اسی مکان کا ہے
یہاں مریض کی حالت سدھر نہیں سکتی
یہاں خیال مسیحا کو اپنی جان کا ہے
یہاں گمان سے ہٹ کر تو کچھ نہیں ممکن
جو ہو رہا ہے وہ ممکن کسی گمان کا ہے

راغب تحسین

No comments:

Post a Comment