زمیں کا درد ہے اور خوف آسمان کا ہے
ہمارے واسطے یہ وقت امتحان کا ہے
میں شہر بھر کا ہدف ہوں یقیں سے کیسے کہوں
جو آ رہا ہے ادھر تیر، کس کمان کا ہے؟
یہ دھوپ ہے جو مسلسل سفر میں رکھتی ہے
کوئی پکارنے والا نہیں بیاباں میں
یہ سب فریبِ سماعت مِرے گمان کا ہے
کہا گیا تھا کہ بنیاد اس کی ٹھیک نہیں
سو دیکھ لو، کہ یہ ملبہ اسی مکان کا ہے
یہاں مریض کی حالت سدھر نہیں سکتی
یہاں خیال مسیحا کو اپنی جان کا ہے
یہاں گمان سے ہٹ کر تو کچھ نہیں ممکن
جو ہو رہا ہے وہ ممکن کسی گمان کا ہے
راغب تحسین
No comments:
Post a Comment