صفحات

Tuesday, 25 August 2020

جب ہم کو اپنے قتل کے دعوے قبول تھے

جب ہم کو اپنے قتل کے دعوے قبول تھے
پھر قاتلوں کے کس لیے چہرے ملول تھے
تھا جھوٹ بھی تو جن کے لیے مصلحت کا نام
ان کی منافقت کے بھی اپنے اصول تھے
چلتی ہوا کے ساتھ کہیں ہو گئے تھے گم
جو راہ میں ملے تھے وہ راہوں کی دھول تھے
جن کو شمار کرتے رہے مدتوں سے ہم
وہ سارے لمحے وقت کی جیسے کہ دھول تھے
کل تک جو خود بہار کا موسم بنے رہے
دامن میں ان کے آج نہ کانٹے نہ پھول تھے

نزہت عباسی

No comments:

Post a Comment