جب ہم کو اپنے قتل کے دعوے قبول تھے
پھر قاتلوں کے کس لیے چہرے ملول تھے
تھا جھوٹ بھی تو جن کے لیے مصلحت کا نام
ان کی منافقت کے بھی اپنے اصول تھے
چلتی ہوا کے ساتھ کہیں ہو گئے تھے گم
جن کو شمار کرتے رہے مدتوں سے ہم
وہ سارے لمحے وقت کی جیسے کہ دھول تھے
کل تک جو خود بہار کا موسم بنے رہے
دامن میں ان کے آج نہ کانٹے نہ پھول تھے
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment