Tuesday, 25 August 2020

چمن چمن پہ وہی حیرتیں سی ہیں طاری

چمن چمن پہ وہی حیرتیں سی ہیں طاری
خزاں کے بعد بہاروں کا سلسلہ جاری
چمکتے ہیں سبھی چہرے مگر نہ جانے کیوں
خلوص سے ہیں یہاں پر تمام دل عاری
تمہاری جیت پر ہم خوش ہوئے مگر بازی
جو سچ کہو تو بھلا آج کس نے یوں ہاری
چلو سناتے ہیں تم کو ذرا یہ رات کٹے
کہ آج دل پہ ہے اک بوجھ سا یہ کیوں بھاری
لبوں پہ بات نہیں آئی اور نہ آئے گی
کہ اپنی ذات کسی پر ہے ہم نے کیوں واری

نزہت عباسی

No comments:

Post a Comment