زخم آنکھوں میں اتر آئے ہیں گہرے کیسے
خواب دیکھے تھے کبھی ہم نے سنہرے کیسے
یہ بھی کیا بات ہے سچ ان کو سنانا مشکل
آئینہ! دیکھ بدل جاتے ہیں چہرے کیسے
بال و پر سارے کتر کے وہ ہمارے خوش ہیں
اب تو غیروں کی شکایت بھی نہیں کر سکتے
زخم اپنوں کے لگے دل پہ یہ گہرے کیسے
زیست کا کربِ مسلسل بھی عطا ہے اس کی
دل کسی بات پہ ٹھہرے بھی تو ٹھہرے کیسے
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment