صفحات

Monday, 24 August 2020

زہر کیا سانپ کی اک شوک سے مر جائیں گے

زہر کیا سانپ کی اک شُوک سے مر جائیں گے
ہم وبا سے جو بچے، بھوک سے مر جائیں گے
غلطی پر ہمیں اکسائیں گے ایسے حالات
ہم یہاں اپنی کسی چُوک سے مر جائیں گے
صُور لے کر کھڑا رہ جائے گا یوں اسرافیل
ہُو کے عالم میں کسی ہوک سے مرجائیں گے
ڈالا جاتا ہے جو ٹکڑا سگِ آوارہ کو
ہم بھی ایسے ہی کسی ٹُوک سے مر جائیں گے

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment