صفحات

Monday, 24 August 2020

کوئی چہرہ تھا مگر چاند کی تمثیل میں تھا

یہ جو شفاف سا اک عکس ابھی جھیل میں تھا
کوئی چہرہ تھا مگر چاند کی تمثیل میں تھا
بات کیا تھی، یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں
ہاں تِرا ذکر بھی تھا اور بڑی تفصیل میں تھا
کوئی پیغام تھا آنکھوں میں، سو آنکھوں میں رہا
مسئلہ اصل تو پیغام کی ترسیل میں تھا
یاد کرتا ہوں، کہاں بھول کے آیا ہوں اسے
ایسا ہی عکس مِری سوچ کی زنبیل میں تھا
میں کوئی قیس نہ تھا پھر بھی مجھے سنگ پڑے
ہاں! تِرا نام مگر، جسم کے ہر نیل میں تھا
اس نئے نسخے میں تحریف ہوئی ہے ورنہ
ذکر میرا بھی کہیں پیار کی انجیل میں تھا
اس لیے بھی اسے پہچاننے میں دیر لگی
وقت کا رخنہ ابھی شکل کی تشکیل میں تھا
دل💓 کے لٹنے کا زیادہ تو نہیں دکھ 
تھا تو سینے میں مگر درد کی تحویل میں تھا

سعید دوشی

No comments:

Post a Comment