یہ جو شفاف سا اک عکس ابھی جھیل میں تھا
کوئی چہرہ تھا مگر چاند کی تمثیل میں تھا
بات کیا تھی، یہ مجھے اچھی طرح یاد نہیں
ہاں تِرا ذکر بھی تھا اور بڑی تفصیل میں تھا
کوئی پیغام تھا آنکھوں میں، سو آنکھوں میں رہا
یاد کرتا ہوں، کہاں بھول کے آیا ہوں اسے
ایسا ہی عکس مِری سوچ کی زنبیل میں تھا
میں کوئی قیس نہ تھا پھر بھی مجھے سنگ پڑے
ہاں! تِرا نام مگر، جسم کے ہر نیل میں تھا
اس نئے نسخے میں تحریف ہوئی ہے ورنہ
ذکر میرا بھی کہیں پیار کی انجیل میں تھا
اس لیے بھی اسے پہچاننے میں دیر لگی
وقت کا رخنہ ابھی شکل کی تشکیل میں تھا
دل💓 کے لٹنے کا زیادہ تو نہیں دکھ
تھا تو سینے میں مگر درد کی تحویل میں تھا
سعید دوشی
No comments:
Post a Comment