مجھے سنبھال، مِرا ہاتھ تھام کر لے جا
تھکا ہوا ہوں کئی دن کا مجھ کو گھر لے جا
گرفتِ گل سے نکل کر بکھرتا جاتا ہوں
مجھے ہوا کے پروں میں سمیٹ کر لے جا
جہاں سے مانگ مِرے نام پر حیات کی بھیک
جہانِ پست کو پھر دیکھنے کی خواہش ہے
شعورِ غم! مجھے غم کے پہاڑ پر لے جا
اب اس سے آگے ہر اک موڑ پر اندھیرا ہے
تُو اپنے ساتھ مِرے پیار کی سحر لے جا
تُو جس کی راہ میں رویا ہے عمر بھر ناسک
وہ صبح راکھ ہوئی، اپنی جھولی بھر لے جا
نثار ناسک
No comments:
Post a Comment