میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا
کہ ⸙ شاخ شاخ ⸙ پہ کھلتا رہا، بکھرتا رہا
مجھے تو اتنی خبر ہے کہ مشتِ خاک تھا میں
جو چاک مہلت گریہ پہ رقص کرتا رہا
یہ سانس بھر مِرے حصے کا خواب کیسا تھا
عجیب جنگ رہی میری، میرے عہد کے ساتھ
میں اس کے جال⽹ کو، وہ میرے پر کترتا رہا
انہوں نے مجھ کو سمندر ہی دیکھنے نہ دیا
کہ گھر کا گھر ہی مِرے ڈوبنے سے ڈرتا رہا
نثار ناسک
No comments:
Post a Comment