صفحات

Monday, 24 August 2020

میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا

میں کس کی کھوج میں اس کرب سے گزرتا رہا
کہ ⸙ شاخ شاخ ⸙ پہ کھلتا رہا، بکھرتا رہا
مجھے تو اتنی خبر ہے کہ مشتِ خاک تھا میں
جو چاک مہلت گریہ پہ رقص کرتا رہا
یہ سانس بھر مِرے حصے کا خواب کیسا تھا
کہ جس میں اپنے لہو سے میں رنگ بھرتا رہا
عجیب جنگ رہی میری، میرے عہد کے ساتھ
میں اس کے جال⽹ کو، وہ میرے پر کترتا رہا
انہوں نے مجھ کو سمندر ہی دیکھنے نہ دیا
کہ گھر کا گھر ہی مِرے ڈوبنے سے ڈرتا رہا

نثار ناسک

No comments:

Post a Comment