وہی جو راہ کا پتھر تھا، بے تراش بھی تھا
وہ خستہ جاں ہی کبھی آئینہ قماش بھی تھا
لہو کے پھول رگ جاں میں جس سے کھلتے تھے
وہی تو شیشۂ دل تھا کہ پاش پاش بھی تھا
اٹھائے پھرتا تھا جس کو صلیب کی صورت
پلک جھپکنے میں کچھ خواب ٹوٹ جاتے ہیں
جو بت شکن ہے وہی لمحہ بت تراش بھی تھا
وہ حرفِ ناز کہ ریشم کا تار کہیے جسے
وہی تو دل کے لیے اک حسیں خراش بھی تھا
اداۓ حسن، جسے کہیۓ بے رخی تنویر
اسی سے طرزِِ تغافل کا راز فاش بھی تھا
تنویر احمد علوی
No comments:
Post a Comment