صفحات

Tuesday, 25 August 2020

ہے اضطراب ہر اک رنگ کو بکھرنے کا

 ہے اضطراب ہر اک رنگ کو بکھرنے کا 

کہ آفتاب نہیں رات بھر ٹھہرنے کا 

دیا ہے جس نے بھی چپ کا شراپ لفظوں کو

اسے خبر ہے نہیں لفظ کوئی مرنے کا

مجسمے کی طرح موسموں کو سہتا ہے

وہ منتظر ہے کوئی حادثہ گزرنے کا

لٹکتے سوکھتے یہ نقش یوں ہی روئیں گے

گزر گیا ہے جو موسم تھا رنگ بھرنے کا

وہ آئینے سے اگر ہو گیا ہے بے پروا

جواز کیا ہے اسے پھر کسی سے ڈرنے کا

گرے گی کل بھی یہی دھوپ اور یہی شبنم

اس آسماں سے نہیں اور کچھ اترنے کا

اب آگ آگ ہے نیلے پہاڑ کا منظر

ہمیں تھا شوق بہت اس کے پار اترنے کا

اگرچہ اس کی ہر اک بات کھردری ہے بہت

مجھے پسند ہے ڈھنگ اس کے بات کرنے کا

دیا ہے جس نے بھی چپ کا شراپ لفظوں کو

اسے خبر ہے نہیں لفظ کوئی مرنے کا

ہمیں خبر ہے ہمارے سفر کی اے منظور

کہیں گے ہم ہی نہ ہے راستا سنورنے کا 


حکیم منظور

No comments:

Post a Comment