صفحات

Wednesday, 26 August 2020

نہ پوچھ کب تیری چاہت کے پیرہن پہنے

نہ پوچھ کب تیری چاہت کے پیرہن پہنے
فراز عرش تھے روحوں نے جب بدن پہنے
کسی کسی نے تو خوشیاں بھی مفت میں پائیں
کسی نے غم کے لبادے بھی قیمتاً پہنے
اسے ذرا بھی میری موت کا ملال نہیں
سیاہ لباس تو وہ شوخ عادتاً پہنے
مِری حیات کے لمحے کسی کی راہوں میں
کھڑے ہیں آج بھی پتھر کے پیرہن پہنے
اگر پڑے جو ضرورت تو ایک خواہش ہے
مِرے لہو کی شعاعیں مِرا وطن پہنے

محمود غزنی

No comments:

Post a Comment