صفحات

Wednesday, 26 August 2020

جو تجھے بھول گیا تو بھی اسے یاد نہ رکھ

جو تجھے بھول گیا تُو بھی اسے یاد نہ رکھ
بہتے پانی پہ تمناؤں کی بنیاد نہ رکھ
چند لمحے مجھے سُکھ کے بھی عنایت کر دے
عمر ساری تو مِرے حال کو برباد نہ رکھ
یہ تِری چپ نہ تِرے درد کا درماں ہو گی
اپنے سینے میں دبا کر کوئی فریاد نہ رکھ
کل جو آئے تھے بڑے شوق سے مہماں بن کر
آج کہتے ہیں کہ اس گھر کو تُو آباد نہ رکھ
تیرے احساس سے کہتی ہے یہ غزنی کی غزل
ہے مِرا حق تو مِری جان مِری داد نہ رکھ

محمود غزنی

No comments:

Post a Comment