تمہیں جانے کی جلدی تھی
تمہیں جانے کی جلدی تھی
سو اپنی جلدبازی میں
تم اپنے لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے، پوروں کی شمعیں
میرے سینے میں بھڑکتا چھوڑ آئے ہو
کچھ سنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں
کسی نوزائیدہ خوشبو کے تازہ خوابچے
بستر کی شکنوں میں گِرے کچھ خوبرو لمحے
ڈریسنگ روم میں ہینگر سے لٹکی ایک صدرنگی ہنسی کو
بس اچانک ہی پسِ پردہ لٹکتا چھوڑ آئے ہو
تمییں جانے کی جلدی تھی
اب ایسا ہے کہ جب بھی
بے خیالی میں سہی لیکن کبھی جو اِس طرف نکلو
تو اتنا یاد رکھنا
گھر کی چابی صدر دروازے کے بائیں ہاتھ پر
اک خول میں رکھی ملے گی
اور تمہیں معلوم ہے
کپڑوں کی الماری ہمیشہ سے کھلی ہے
سیف کی چابی تو تم نے خود ہی گم کی تھی
سو وہ تب سے کھلا ہے
اور اس میں کچھ تمہاری چوڑیاں، اِک آدھ انگوٹھی
اور ان کے بیچ میں کچھ زرد لمحے
اور ان لمحوں کی گرہوں میں بندھی کچھ لمس کی کرنیں
نظر کے زاویے پوروں کی شمعیں
اور سنہرے رنگ کی ٹوٹی ہوئی سانسیں ملیں گی
اور وہ سب کچھ
جو میرا اور تمہارا مشترک سا اک اثاثہ ہے سمٹ پائے
تو لے جانا
مجھے جانے کی جلدی ہے
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment