درد ہر رنگ سے اطوارِ دعا مانگے ہے
لحظہ لحظہ مِرے زخموں کا پتا مانگے ہے
اتنی آنکھیں ہیں مگر دیکھتی کیا رہتی ہیں
یہ تماشا تو خدا جانیے کیا مانگے ہے؟
سب تو ہُشیار ہوئے، تم بھی سیانے بن جاؤ
کان سنتے تو ہیں لیکن نہ سمجھنے کے لیے
کوئی سمجھا بھی، تو مفہوم نیا مانگے ہے
علی ظہیر
No comments:
Post a Comment