Tuesday, 25 August 2020

درد ہر رنگ سے اطوار دعا مانگے ہے

درد ہر رنگ سے اطوارِ دعا مانگے ہے 
لحظہ لحظہ مِرے زخموں کا پتا مانگے ہے 
اتنی آنکھیں ہیں مگر دیکھتی کیا رہتی ہیں 
یہ تماشا تو خدا جانیے کیا مانگے ہے؟ 
سب تو ہُشیار ہوئے، تم بھی سیانے بن جاؤ 
دیکھو ہر شخص وفاؤں کا صِلہ مانگے ہے 
کان سنتے تو ہیں لیکن نہ سمجھنے کے لیے 
کوئی سمجھا بھی، تو مفہوم نیا مانگے ہے 

علی ظہیر

No comments:

Post a Comment