صفحات

Tuesday, 25 August 2020

مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیا

مل سکے گی اب بھی دادِ آبلہ پائی تو کیا
فاصلے کم ہو گئے، منزل قریب آئی تو کیا
ہے وہی جبر اسیری، اور وہی غم کا قفس
دل پہ بن آئی تو کیا، یہ روح گھبرائی تو کیا
بات تو جب  ہے کہ سارا گلستاں ہنسنے لگے
فصلِ گل میں چند پھولوں کو ہنسی آئی تو کیا
لاؤ ان بے کیفیوں ہی سے نکالیں راہِ کیف
وقت اب لے گا کوئی پُر کیف انگڑائی تو کیا
بیڑیاں وہمِ تعلق کی نئی پہنا گئے
دوست آ کر کاٹتے زنجیرِ تنہائی تو کیا

اعجاز صدیقی

No comments:

Post a Comment