مل سکے گی اب بھی دادِ آبلہ پائی تو کیا
فاصلے کم ہو گئے، منزل قریب آئی تو کیا
ہے وہی جبر اسیری، اور وہی غم کا قفس
دل پہ بن آئی تو کیا، یہ روح گھبرائی تو کیا
بات تو جب ہے کہ سارا گلستاں ہنسنے لگے
لاؤ ان بے کیفیوں ہی سے نکالیں راہِ کیف
وقت اب لے گا کوئی پُر کیف انگڑائی تو کیا
بیڑیاں وہمِ تعلق کی نئی پہنا گئے
دوست آ کر کاٹتے زنجیرِ تنہائی تو کیا
اعجاز صدیقی
No comments:
Post a Comment