وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوا
اور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سوا
اب نہ بے باک نگاہی ہے، نہ گستاخ لبی
چند سہمے ہوۓ مبہم سے اشاروں کے سوا
ساقیا! کوئی نہیں مجرمِ مے خانہ یہاں
آپ کہتے ہیں کہ گلشن میں ہے ارزانئ گل
اپنے دامن میں تو کچھ بھی نہیں خاروں کے سوا
کتنے قدموں کی خراشوں سے لہو رِستا ہے
کس کو معلوم ہے؟ یہ راہ گزاروں کے سوا
بات کرتے ہیں وہ اب ایسی زباں میں اعجاز
کوئی سمجھے نہ جسے نامہ نگاروں کے سوا
اعجاز صدیقی
No comments:
Post a Comment