صفحات

Saturday, 19 September 2020

جب اس کے وصل کی خواہش جوان ہو رہی تھی

جب اس کے وصل کی خواہش جوان ہو رہی تھی

وہ شاہ زادی یقیں سے گمان ہو رہی تھی

وہ میرے پیار سے منکر ہوئی تھی اس پل، جب

قسم اٹھا رہا تھا میں، اذان ہو رہی تھی

میں اس سے عشق پہ گھنٹوں سے بحث کر رہا تھا

نہ میرے اشک رکے، نہ تھکان ہو رہی تھی

جدا ہوئی تھی وہ جب، دل پہ وار کرنے کو

فلک پہ قوسِ قزح بھی کمان ہو رہی تھی

وہ لڑکی کتنی حقیقت پسند تھی عمار

ہنسی خوشی سے جو خود داستان ہو رہی تھی


عمار یاسر مگسی 

No comments:

Post a Comment