صفحات

Saturday, 19 September 2020

عجب نہیں ہے کہ الزام میں نہیں آتا

 عجب نہیں ہے کہ الزام میں نہیں آتا

ہمارا نام کسی نام میں نہیں آتا

میں کھولتا ہوں بدن کی گرہ تسلسل سے

مگر جنون کے افہام میں نہیں آتا

کسے ملال ہے زخموں کی رائیگانی کا

ہمارا درد کسی کام میں نہیں آتا

ہمارا دل ہے سو اس بات کا خیال رہے

کسی بھی قریۂ گمنام میں نہیں آتا

بدن کی ریت میں سب جذب ہوتا رہتا ہے

لہو جگر کا مِرے جام میں نہیں آتا

کمند ڈالی ہے ظالم نے کس سلیقے سے

غزال ہے کہ مگر دام میں نہیں آتا

مصالحت شبِ غم سے کمال نے کر لی

کہ اب خلل کوئی آرام میں نہیں آتا


شاہد کمال

No comments:

Post a Comment