صفحات

Saturday, 19 September 2020

ہار جانے پر وفا کی بے بسی دیکھی گئی

 ہار جانے پر وفا کی بے بسی دیکھی گئی

بند کمرے میں کسی کی خود کشی دیکھی گئی

آپ نے زنجیر کو چھو کر بنا ڈالا ہے بیل

اور پیڑوں پر خزاں میں تازگی دیکھی گئی

معجزاتی طور پہ دیکھا گیا چہرہ کوئی

آخری لمحوں میں گویا زندگی دیکھی گئی

میرے دل کی ظلمتوں میں ہے چراغاں رات سے

آپ کو دیکھا گیا ہے، روشنی دیکھی گئی

رات پہلو میں ہمارے چاند تھا، لیکن ہمیں

کہہ رہے ہیں لوگ کہ بس چاندنی دیکھی گئی

سر سے لے کر پاؤں تک آنکھیں ہوا جاتا ہوں میں

دیکھنے کی ایسی حسرت کیا کبھی دیکھی گئی

دیکھ لو بادل تمہارا ساتھ دینے آ گئے

آسماں میں بھی تمہاری دوستی دیکھی گئی

خوبصورت ہیں، زمانہ معترف ہے آپ کا

آپ کے آنے سے دنیا میں خوشی دیکھی گئی

گو کہ لکھنے کی بہت عادت نہیں باقی مگر

میرے لفظوں میں بلا کی تشنگی دیکھی گئی


وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment