ہار جانے پر وفا کی بے بسی دیکھی گئی
بند کمرے میں کسی کی خود کشی دیکھی گئی
آپ نے زنجیر کو چھو کر بنا ڈالا ہے بیل
اور پیڑوں پر خزاں میں تازگی دیکھی گئی
معجزاتی طور پہ دیکھا گیا چہرہ کوئی
آخری لمحوں میں گویا زندگی دیکھی گئی
میرے دل کی ظلمتوں میں ہے چراغاں رات سے
آپ کو دیکھا گیا ہے، روشنی دیکھی گئی
رات پہلو میں ہمارے چاند تھا، لیکن ہمیں
کہہ رہے ہیں لوگ کہ بس چاندنی دیکھی گئی
سر سے لے کر پاؤں تک آنکھیں ہوا جاتا ہوں میں
دیکھنے کی ایسی حسرت کیا کبھی دیکھی گئی
دیکھ لو بادل تمہارا ساتھ دینے آ گئے
آسماں میں بھی تمہاری دوستی دیکھی گئی
خوبصورت ہیں، زمانہ معترف ہے آپ کا
آپ کے آنے سے دنیا میں خوشی دیکھی گئی
گو کہ لکھنے کی بہت عادت نہیں باقی مگر
میرے لفظوں میں بلا کی تشنگی دیکھی گئی
وجاہت باقی
No comments:
Post a Comment