آیت حسن کی جب میں نے تلاوت کی تھی
عشق نے آ کے مِرے ہاتھ پہ بیعت کی تھی
جب ثبوت اور زمانہ تھا محبت کے خلاف
میں نے اس وقت زلیخا کی حمایت کی تھی
مجھ کو مرنے نہ دیا، شعر اتارے مجھ پر
عشق نے بس یہ مِرے ساتھ رعایت کی تھی
گرم بازار ہے دل کا تو خسارہ ہی سہی
طے خریدار سے میں نے یہی قیمت کی تھی
تم جو پھر پوچھنے آئے ہو انہی باتوں کی
میں نے چپ رہ کے کئی بار وضاحت کی تھی
عمار یاسر مگسی
No comments:
Post a Comment