صفحات

Sunday, 20 September 2020

بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مری گھبرائی ہے

بیٹھے بیٹھے جو طبیعت مِری گھبرائی ہے

اور شدت سے مجھے یاد تِری آئی ہے

اس سے بچھڑوں‌ گی تو زندہ نہیں رہ پاؤں گی

میری مونس مِری ہم راز یہ تنہائی ہے

جستجو اب ہے مسرت کی نہ تو غم کی تلاش

بے حسی مجھ کو کہاں لے کے چلی آئی ہے

ڈوب کر ان میں نہ ابھرا ہے نہ ابھرے گا کوئی

جھیل سی آنکھوں میں پاتال سی گہرائی ہے

مجھ میں ہر سمت ضیا بار ہیں ان کی یادیں

چاندنی آج مِرے دل میں اتر آئی ہے

مجھ سے وہ راہ میں کترا کے نکل جانے لگے

میں نے بھی ان سے نہ ملنے کی قسم کھائی ہے

شب افسانہ منور ہے نہ اب شام غزل

انجمن ہے نہ کہیں انجمن آرائی ہے


مینو بخشی

No comments:

Post a Comment