صفحات

Sunday, 20 September 2020

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں

 اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں

ایک اک زخم کو چہرے پہ سجا لایا ہوں

دیکھ چہرے کی عبارت کو کھرچنے کے لیے

اپنے ناخن ذرا کچھ اور بڑھا لایا ہوں

بے وفا لوٹ کے آ دیکھ مِرا جذبۂ عشق

آنسوؤں سے تِری تصویر بنا لایا ہوں

میں نے اک شہر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا

لیکن اس شہر کو آنکھوں میں بسا لایا ہوں

اتنی غفلت کی بھی نیند اچھی نہیں ہوتی ہے

اے چراغو! اٹھو دیکھو میں ضیا لایا ہوں


عزم شاکری

No comments:

Post a Comment