صفحات

Sunday, 20 September 2020

شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا

 شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا

قید راس آئی تو پھر آزاد ہم کو کر دیا

روز نا کردہ گناہوں کی سزا سہتے ہیں ہم

وقت نے کیسا ستم ایجاد ہم کو کر دیا

ہم تھے آئینہ ہماری بدنصیبی تھی کہ جو

پتھروں کے شہر میں آباد ہم کو کر دیا

اور کیا اس سے زیادہ آئے گا فن پر زوال

وقت نے کتنا بڑا استاد ہم کو کر دیا

اپنے کاندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں اپنی لاش

تُو نے اے جذبِ وفا برباد ہم کو کر دیا


عزم شاکری

No comments:

Post a Comment