صفحات

Saturday, 19 September 2020

بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند

 بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند

آپ کو یار پسند، اور مجھے دار پسند

جیت کر جانئے کیوں میں بھی ذرا خوش نہ ہوا

اور دنیا نے بھی میرے لیے کی ہار پسند

ڈال دے وہ بھی جو آنکھوں میں چھپا رکھی ہو

ایسی کنجوسیاں کرتے نہیں مے خوار پسند

ساتھ ہی لے گیا پرسش کی تمنا شاید

ہائے وہ سب سے جدا شاعرِ دشوار پسند

ان کے آلاتِ صدا جو بھی کہیں خوب کہیں

وہ بڑے لوگ ہیں کرتے نہیں انکار پسند

موت آسان تھی جینے سے مگر کیا کیجئے

آ گئی در کے بجائے مجھے دیوار پسند


آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment