صفحات

Saturday, 19 September 2020

یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے

 یہ اجڑے باغ ویرانے پرانے

سناتے ہیں کچھ افسانے پرانے

اک آہِ سرد بن کر رہ گئے ہیں

وہ بیتے دن وہ یارانے پرانے

جنوں کا ایک ہی عالم ہو کیونکر

نئی ہے شمع پروانے پرانے

نئی منزل کی دشواری مسلّم

مگر ہم بھی ہیں دیوانے پرانے

ملے گا پیار غیروں ہی میں جالب

کہ اپنے تو ہیں بے  گانے پرانے


حبیب جالب

No comments:

Post a Comment