رات بھر آنکھ تو نہیں جاگی
کوئی خواہش مگر کہیں جاگی
سو گیا آسماں ستاروں پر
آندھیوں کے تلے زمیں جاگی
میں جو سوئی تیرے خیالوں میں
چاندنی سی کہیں کہیں جاگی
بجھ گئے میرے کرب سے تارے
رات بھر رات بھی نہیں جاگی
سو گیا عشق تیری آنکھوں میں
پھر بھی چاہت کہیں کہیں جاگی
افتخار قیصر
No comments:
Post a Comment