صفحات

Monday, 21 September 2020

ہے تمنا کوئی نہ کوئی آس

ہے تمنا کوئی نہ کوئی آس

زندگی ہے بہت اداس اداس

کیوں نہ غم کو گلے لگاؤں میں

کس کو آئی ہے شادمانی راس

منزلوں کے قریب تر ہے وہ

عشق میں کھو چکا جو ہوش و حواس

کیا کروں ایسے دوستوں کو میں

دوست داری کی جن میں بو ہے نہ باس

خیر ہو ضبط عشق کی یا رب

اک چبھن سی ہے آج دل کے پاس

میری دیوانگی ہی کام آئی

آج پہنا ہے زندگی نے لباس

اے کنول موت سے بھی بد تر ہے

زیست جو ہو بہ قید خوف و ہراس


کنول سیالکوٹی

No comments:

Post a Comment