صفحات

Sunday, 20 September 2020

ترا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے

 تِرا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے

کہیں دست و گریباں ہو نہ آبادی بیاباں سے

الٰہی جذبۂ دل کا اثر اتنا نہ ہو ان پر

پریشاں وہ نہ ہو جائیں مِرے حال پریشاں سے

قیامت ہے وہ آئے اور آتے ہی ہوئے واپس

یہ آثار سحر پیدا ہوئے شام غریباں سے

نظر والے سمجھ جائیں نہ عرش و فرش کی

تِرا دامن نہ چھو جائے کہیں میرے گریباں سے

عروج جوش وحشت سحر ہے یہ روز روشن میں

نظر آتے ہیں تارے روزن دیوار زنداں سے


سحر عشق آبادی

No comments:

Post a Comment