صفحات

Sunday, 20 September 2020

اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے

 اٹھی تھیں آندھیاں جن کو بجھانے

وہ شمعیں اور بھڑکیں اس بہانے

نقابیں بجلیوں کی رخ پہ ڈالے

چمن والوں نے لوٹے آشیانے

یہ کیوں وحشت سے لپکا دست گلچیں

کلی شاید لگی تھی کچھ بتانے

ابھی موہوم ہے سجدے کا مفہوم

جھکا پھر کس لیے سر کون جانے

شعور زندگی کی ڈھال لے کر

چلے ہم موت سے آنکھیں ملانے


پروین فنا سید

No comments:

Post a Comment