صفحات

Sunday, 20 September 2020

یہ عشق ہے

 یہ عشق ہے


بے خود سا رہتا ہے، یہ کیسا صوفی ہے

جاگے تو تبریزی، بولے تو رومی ہے

یہ عشق ہے


گلزار

No comments:

Post a Comment