صفحات

Thursday, 15 October 2020

آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر

 آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کر

دل ہی میں نہ رہ جاؤ آنکھوں سے نہاں ہو کر

ہاں لب پہ بھی آ جاؤ، انداز بیاں ہو کر

آنکھوں میں بھی آ جاؤ اب دل کی زباں ہو کر

کھل جاؤ کبھی مجھ سے، مل جاؤ کبھی مجھ کو

رہتے ہو مِرے دل میں الفت کا گماں ہو کر

ہے شیخ کا یہ عالم، اللہ رے بدمستی

آنکھوں ہی سے ظاہر ہے آیا ہے جہاں ہو کر

بدنامی و بربادی انجام محبت ہیں

دنیا میں رہا فرحت رسوائے جہاں ہو کر


فرحت کانپوری

No comments:

Post a Comment