صفحات

Thursday, 15 October 2020

تماشا پہلے کیا راستہ بنایا گیا

 تماشا پہلے کیا، راستہ بنایا گیا

پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ سنایا گیا

یہ میرا گھر ہے مگر اس کا المیہ یہ ہے

کہ عمر بھر یہاں مجھ سے کبھی نہ آیا گیا

کسی کی آنکھ کی دیمک نے اس کو چاٹ لیا

ہمارے صحن میں جو بھی شجر لگایا گیا

تمہارے عشق کا موسم خزاں بہار سا ہے

مجھے ہنسایا گیا، اور کبھی رلایا گیا

سنائی دیتی ہے آواز سرسراہٹ کی

ہمارے طاق پہ جب بھی دِیا جلایا گیا

یہ سارا شہر یونہی آئینہ نہیں ہوا ہے

گلی گلی میں ہمارا لہو بہایا گیا

غرض کہ یاں پہ کوئی بے غرض نہیں ملتا

ہمیں بھی حسبِ ضرورت یہاں بلایا گیا

تمام شہر اکٹھا کیا گیا احمد

پھر اس کے تخت کو دار و رسن بنایا گیا


احمد ساقی

No comments:

Post a Comment