صفحات

Thursday, 15 October 2020

کتنے دریا اس نگر میں بہہ گئے

 کتنے دریا اس نگر میں بہہ گئے

دل کے صحرا خشک پھر بھی رہ گئے

آج تک گم سم کھڑی ہیں شہر میں

جانے دیواروں سے تم کیا کہہ گئے

ایک تو ہے بات بھی سہتا نہیں

ایک ہم ہیں تیرا غم بھی سہہ گئے

تجھ سے جگ بیتی کی سب باتیں کہیں

کچھ سخن جو گفتنی تھے رہ گئے

تیری میری چاہتوں کے نام پر

لوگ کہنے کو بہت کچھ کہہ گئے


ن م راشد

No comments:

Post a Comment