آنکھوں کو اپنی موند لے پیشِ نظر کو کاٹ دے
رہنا ہے گر یہاں تجھے، دستِ ہنر کو کاٹ دے
ایک سو ایک دُکھ ملے، ایک بھی کام کا نہیں
دُکھ وہ ملے کہ ذہن سے اس کے اثر کو کاٹ دے
کمروں میں آ ٹہلتی ہے بھٹکی ہوئی اک آتما
کس نے کہا تھا صحن سے بوڑھے شجر کو کاٹ دے
عشق کے کاغذات پر کر تو دئیے ہیں دستخط
زادِ سفر کو باندھ اب، پچھلے سفر کو کاٹ دے
تھوڑا رچاؤ درد کا،۔ تھوڑا خمارِ نیند ہو
سُر وہ لگا کہ دوستا قلب و جگر کو کاٹ دے
معنی نہ مل سکے کوئی معنی کے باوجود بھی
ایسے حروف کے سبھی زیر و زبر کو کاٹ دے
دریا ہو لاکھ مشتعل،۔ وقت اگر ہو مہرباں
ناؤ کو پھر بھنور نہیں، ناؤ بھنور کو کاٹ دے
جہانزیب ساحر
No comments:
Post a Comment