صفحات

Thursday, 15 October 2020

اس کو چاند کہہ دینا خود گلاب ہو جانا

 اس کو چاند کہہ دینا، خود گلاب ہو جانا

اور پھر تخیل کا لاجواب ہو جانا

خواہشوں کی مرضی ہے جس جگہ بھی وہ چاہیں

قید میں پڑے رہنا، بازیاب ہو جانا

حسن کی علامت ہوں، یا کوئی قیامت ہوں

یعنی تیری آنکھوں کا انتخاب ہو جانا

جھاڑ کر الگ رکھنا، گرد سے اٹا ماضی

شیلف پر پڑے رہنا، خود کتاب ہو جانا

پینٹ کرنا اشکوں سے ہاتھ پر سمندر کو

پھر وہاں کوئی سیپی دستیاب ہو جانا

ہو تو یہ بھی سکتا ہے، برف آگ جیسی ہو

یہ بھی عین ممکن ہے سنگ آب ہو جانا

نیند نے یہ پوچھا ہے میری گہری آنکھوں سے

کیا بہت ضروی ہے محوِ خواب ہو جانا


انجیل صحیفہ

No comments:

Post a Comment