جو ہو چکا ہے اس پہ کوئی تبصرہ نہ ہو
اچھا یہی کہ اس سے زیادہ برا نہ ہو
میرا ہی رہ کے میرے لیے دردِ سر رہے
وہ شخص میری ضد میں کسی اور کا نہ ہو
کم کیجے التفات کہ ایسا نہ ہو کہیں
پھر خوان سامنے ہو مگر اشتہا نہ ہو
خود اپنے عکس ہی کی شعاعوں سے جل بجھے
آئینہ رو کے پیشِ نظر آئینہ نہ ہو
جی بھر کے سوئیے کہ دمِ وصل ہو نہ یوں
آنکھوں میں رتجگے کے لیے بھی جگہ نہ ہو
دونوں طرف کے کھیلنے والوں میں رائیگاں
وہ شخص ہوں کہ جس کو کسی نے چنا نہ ہو
خاور اسد
No comments:
Post a Comment