Saturday, 10 October 2020

جو ہو چکا ہے اس پہ کوئی تبصرہ نہ ہو

 جو ہو چکا ہے اس پہ کوئی تبصرہ نہ ہو

اچھا یہی کہ اس سے زیادہ برا نہ ہو

میرا ہی رہ کے میرے لیے دردِ سر رہے

وہ شخص میری ضد میں کسی اور کا نہ ہو

کم کیجے التفات کہ ایسا نہ ہو کہیں

پھر خوان سامنے ہو مگر اشتہا نہ ہو

خود اپنے عکس ہی کی شعاعوں سے جل بجھے

آئینہ رو کے پیشِ نظر آئینہ نہ ہو

جی بھر کے سوئیے کہ دمِ وصل ہو نہ یوں

آنکھوں میں رتجگے کے لیے بھی جگہ نہ ہو

دونوں طرف کے کھیلنے والوں میں رائیگاں

وہ شخص ہوں کہ جس کو کسی نے چنا نہ ہو


خاور اسد

No comments:

Post a Comment