Wednesday, 28 October 2020

فلک نے سیکھا ہے حالات کو زبوں کرنا

فلک نے سیکھا ہے حالات کو زبوں کرنا

ہر ایک گھر کو کسی طرح بے ستوں کرنا

سمٹ کے آئے نہ آشفتگی زمانے کی

دل و نگاہ میں اشکوں سے کچھ سکوں کرنا

حنائی دست کو لہرا کے خوش فضاؤں میں

خوشی سے لوٹ کے آنے کا اک شگوں کرنا

وہ لوٹ آئے تو شکوے بھی ملتوی ہوں گے

حساب درد کو اب اور کیا فزوں کرنا

فصیل شہر میں آسیب بھول جانے کا

پہن کے یاد کی تعویذ کیا فسوں کرنا

نہ ہوش آئے مجھے پتھروں کی بستی میں

اٹھا کے سنگ مجھے صاحب جنوں کرنا

جو دسترس میں ہو تزئین جسم و جان اگر

کسی کی یاد سے ہی زینت دروں کرنا

ہوا ہے خون بھی صغریٰ کا خواب بننے میں

کہ مصلحت ہی کی خاطر نہ خواب خوں کرنا


ڈاکٹر صغریٰ عالم

No comments:

Post a Comment