صفحات

Thursday, 15 October 2020

ساقی گری کا فرض ادا کر دیا گیا

 ساقی گری کا فرض ادا کر دیا گیا

پانی کا گھونٹ زہر ملا کر دیا گیا

بس تجربوں کی نذر ہوئے اپنے سارے خواب

کیا ہم نے کرنا چاہا تھا کیا کر دیا گیا

وابستگی کسی کی تو اس غم کدے سے ہے 

ورنہ یہاں پہ کون جلا کر دیا گیا 

اب قید ختم ہونے کی وہ کیا خوشی منائے 

پر قینچ کر کے جس کو رہا کر دیا گیا 

خوئے ستم تمہیں دی ہمیں خوئے ضبط غم

سب کو بقدر ظرف عطا کر دیا گیا

اک ذکر ایسا چھیڑا کسی غمگسار نے

بھرنے کو تھا جو زخم ہرا کر دیا گیا


مرتضیٰ برلاس

No comments:

Post a Comment