صفحات

Thursday, 15 October 2020

ریزہ ریزہ سامنے ہر شکل کا منظر لگا

 ریزہ ریزہ سامنے ہر شکل کا منظر لگا

آئینے کے رخ پہ جیسے عکس کا پتھر لگا

کوئے خاموشی میں آوازیں پگھلتی دیکھ لے

شام ہی سے سو رہے ہیں لوگ اپنے در لگا

شہر اجڑا ہے تو کیا، تُو نام اپنا یاد رکھ

اپنے دروازے کی تختی صحن کے اندر لگا

شعلۂ رفتار ہوں میں کب تِرے ہاتھ آؤں گا

روک لے میری رگوں میں برف کے پتھر لگا

ریگ ہوں موجوں کے رخ پر جاگتا رہتا ہوں میں

بے کراں نیلا سمندر مجھ کو اپنا گھر لگا


سعادت سعید

No comments:

Post a Comment