صفحات

Thursday, 15 October 2020

ادا میں حسن ملا کر حیا سے بنتا ہے

ادا میں حسن ملا کر حیا سے بنتا ہے

تمہارے جیسا بنے تو خدا سے بنتا ہے

نتیجہ جان کے تجھ سے گِلہ نہیں کرتا

بھلا چراغ کا جھگڑا ہوا سے بنتا ہے

مریض کھائے تو فوراً ہی ٹھیک ہو جائے

کسی کے ہاتھ کا دلیہ دوا سے بنتا ہے

حواسِ خمسہ کی ترتیب ہی الٹ گئی ہے

زباں کا ذائقہ تیری صدا سے بنتا ہے

پرانے عشق کا ملبہ اسی لیے پھینکا

نیا مکان تو پھر ابتداء سے بنتا ہے

مِرے وجود کے اندر یہ حبس کا موسم

تِرے بندھے ہوئے بندِ قبا سے بنتا ہے

سنو یہ اس کی گلی ہے پرے کرو دولت

یہاں پہ کام بنے تو دعا سے بنتا ہے


ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment