درد کی نقدی لٹا افکار پھونک
دوستا جلتی چتا پر مار پھونک
پھونک دے آنکھوں میں پلتے خوابیے
خواہشِ دیدارِ کوئے یار پھونک
اہتمامِ شب گری پر خاک ڈال
رمزیاتِ دیدۂ بیدار پھونک
نیند کو قابو میں لانے کے لیے
لازمی ہے سگریٹیں دو چار پھونک
نخل امیدوں کے ہوں سرسبز کیوں
توڑ دے ہر شاخ برگ و بار پھونک
اس سرائے کرب سے باہر نکل
کاٹ کھاتے یہ در و دیوار پھونک
عبدالرحمان واصف
No comments:
Post a Comment