صفحات

Thursday, 15 October 2020

کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں

 کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں

مکیں ہم پرانے مکانوں کے ہیں

ہر اک منہ کو جیسے لہو چاہیے

عجب ذائقے اب زبانوں کے ہیں

زمیں کا سکوں کر رہے ہیں تباہ

یہ باشندے کن آسمانوں کے ہیں

ہواؤں کو خاطر میں لاتے نہیں

اسیر اس طرح بادبانوں کے ہیں

مناظر ہوں واضح بھلا کس طرح

دھوئیں ہر طرف کارخانوں کے ہیں

اگرچہ بہت پر شکستہ ہیں ہم

مگر پھر بھی قائل اڑانوں کے ہیں

سجاوٹ میں اپنا بھی ثانی نہیں

زمان آئینے ہم دوکانوں کے ہیں


زمان کنجاہی

No comments:

Post a Comment